ہر لڑکی کی طرح میرے بھی سو خواب تھے، رنگین خواب، امیدوں سے بھرے ہوئے خواب۔ 2011 کا سال میری زندگی میں ایک نیا موڑ لے کر آیا۔ ہمارے معاشرتی رواج کے مطابق، والدین نے جہاں رشتہ طے کیا، میں نے بھی سر تسلیمِ خم کر دیا۔ وہ ہمارے دور کے رشتہ دار تھے، اور میں نے انہیں دیکھا تک نہیں تھا۔ ایک لڑکی جب اپنے خوابوں کی پوٹلی اٹھائے سسرال کی دہلیز پر قدم رکھتی ہے، تو اسے کیا معلوم کہ قسمت نے اس کے لیے کیا لکھا ہے۔ میں بھی بالکل انجان تھی کہ میرے آگے کیا ہونے والا ہے۔
شادی کے اگلے دن سے ہی تنقید اور طعنوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو گیا۔ میرے سر سے میرے والد کا سایہ اٹھ چکا تھا، لیکن میرے بڑے بھائی نے باپ بن کر میری پرورش کی، مجھے پڑھایا لکھایا اور دھوم دھام سے شادی کی۔ میں نے سسرال میں قدم رکھتے ہی محسوس کیا کہ یہاں رشتوں کی نہیں، بلکہ طعنوں کی حکمرانی ہے۔
مجھے تو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ جس گھر میں میں جا رہی ہوں، وہاں 'عورت راج' ہے۔ ایک بھائی اور پانچ بہنیں، اوپر سے ایک شادی شدہ نند جو آٹھ دس سال سے بیاہی ہوئی تھی، لیکن روزانہ رات کو اپنے میکے آ کر ہر فیصلے میں مداخلت کرتی تھی۔ سسر تو بہت اچھے انسان تھے، مگر ان کی بات اس گھر میں نہیں چلتی تھی، وہاں صرف میری ساس اور نندوں کی حکمرانی تھی۔
میری ماں کی تربیت تھی کہ سسرال میں زبان بند رکھنی ہے، چاہے جو بھی ہو۔ میں خاموشی سے سب برداشت کرتی رہی۔ شادی کے صرف ایک ہفتے بعد ہی نندوں نے میرے اٹھنے بیٹھنے پر تبصرے شروع کر دیے۔ صبح دس بجے بھی اگر میں جاگتی تو آوازیں آتی تھیں، جیسے طنزیہ جملے کستے ہوئے چڑیاں چہچہا رہی ہوں۔ شادی کے دس دن بعد ہی ساس نے حکم دے دیا کہ صبح چھ بجے رات کی روٹیاں پکانے کے لیے اٹھو۔ میرا شوہر اپنی ماں اور بہنوں سے اتنا ڈرتا تھا کہ الارم لگا کر مجھے چھ بجے اٹھا دیتا کہ جاؤ جا کر روٹیاں پکاؤ۔
لیکن اصل تکلیف تو ابھی باقی تھی۔ میرے سسرال والوں نے ہم سے جھوٹ بولا تھا کہ میرا شوہر شوگر کا مریض نہیں ہے، جبکہ وہ انتہائی درجے کے شوگر پیشنٹ تھے۔ شادی کے چند دن بعد ہی مجھے پتہ چلا کہ وہ بستر پر ہی پیشاب کر دیتے ہیں۔ میں نے عزتِ نفس کی خاطر گھر میں کسی کو کچھ نہ بتایا۔ روزانہ وہ گدہ اٹھا کر دھوپ میں ڈالنا، پھر اسے صاف کرنا، یہ میری روزانہ کی مشق بن گئی تھی۔ جب میں نے سسرال والوں سے پوچھا تو الٹا مجھے ہی قصوروار ٹھہرایا گیا کہ "پہلے تو شوگر نہیں تھی، اب ہو گئی ہے۔"
اس گھر میں میرے لیے کوئی سکون نہیں تھا، صرف طعنوں کی بوچھاڑ تھی۔ میں نے بڑی مشکلیں کاٹیں، خاموشی سے اپنا کرب سہا، لیکن اس سسرال نے مجھے وہ سب دیا جس کا تصور بھی ایک نئی نویلی دلہن کے لیے قیامت سے کم نہیں۔
Comments
Post a Comment