"بچپن کی وہ یادیں جب ذہن میں آتی ہیں، تو آج بھی دل کسی پرانے زخم کی طرح تیرنے لگتا ہے۔ ہم نو (9) بہن بھائی تھے، اور میں—سب سے چھوٹی۔ گھر بھر میں اتنے لوگ، پھر بھی نہ جانے کیوں، میں ہمیشہ خود کو اکیلی محسوس کرتی رہی۔ میں بہت سیدھی سادی بچی تھی۔ میری خواہشات، میرے خواب، سب میرے اندر ہی دفن رہتے—میں نے کبھی کچھ مانگنے کی جرات نہیں کی۔ میرے ابو، جو میری دنیا تھے، وہ مجھ سے بہت پیار کرتے تھے۔ انہوں نے میری ہر ضرورت کا خیال رکھا، کبھی کسی چیز کی کمی نہیں ہونے دی۔ لیکن گھر کے اس بڑے انبوہ میں، میں ہمیشہ اپنے بہن بھائیوں کے درمیان اس پیار کی تلاش میں بھٹکتی رہی جو شاید صرف میرا ہوتا۔ مجھے اکثر یہ محسوس ہوتا تھا کہ امی اور ابو کا سارا پیار میرے بڑے بہن بھائی ہی لے گئے ہیں۔ میرے حصے میں صرف خاموشی اور اکیلاپن آیا۔ میں ان کے بیچ رہ کر بھی وہی پیار نہ پا سکی، جس کے لیے میرا چھوٹا سا دل ترستا رہا۔ آج جب میں پیچھے مڑ کر دیکھتی ہوں، تو مجھے وہ معصوم بچی نظر آتی ہے، جس نے پیار کی تلاش میں اپنی پوری دنیا خاموشی میں گزار دی۔ یہ میری داستان کا آغاز ہے—اس بچپن سے، جہاں میں معصوم تھی، اس آج کی عورت تک، جس نے اپنے زخموں کو اپنی طاقت بنا لیا ہے۔ میں وہی ہوں، جو کبھی خاموش تھی، لیکن اب میں اس ہر عورت کی چیخ بن کر بول رہی ہوں جسے چپ کرا دیا گیا ہے۔
"بچپن کی وہ یادیں جب ذہن میں آتی ہیں، تو آج بھی دل کسی پرانے زخم کی طرح تیرنے لگتا ہے۔ ہم نو (9) بہن بھائی تھے، اور میں—سب سے چھوٹی۔ گھر بھر میں اتنے لوگ، پھر بھی نہ جانے کیوں، میں ہمیشہ خود کو اکیلی محسوس کرتی رہی۔ میں بہت سیدھی سادی بچی تھی۔ میری خواہشات، میرے خواب، سب میرے اندر ہی دفن رہتے—میں نے کبھی کچھ مانگنے کی جرات نہیں کی۔ میرے ابو، جو میری دنیا تھے، وہ مجھ سے بہت پیار کرتے تھے۔ انہوں نے میری ہر ضرورت کا خیال رکھا، کبھی کسی چیز کی کمی نہیں ہونے دی۔ لیکن گھر کے اس بڑے انبوہ میں، میں ہمیشہ اپنے بہن بھائیوں کے درمیان اس پیار کی تلاش میں بھٹکتی رہی جو شاید صرف میرا ہوتا۔ مجھے اکثر یہ محسوس ہوتا تھا کہ امی اور ابو کا سارا پیار میرے بڑے بہن بھائی ہی لے گئے ہیں۔ میرے حصے میں صرف خاموشی اور اکیلاپن آیا۔ میں ان کے بیچ رہ کر بھی وہی پیار نہ پا سکی، جس کے لیے میرا چھوٹا سا دل ترستا رہا۔ آج جب میں پیچھے مڑ کر دیکھتی ہوں، تو مجھے وہ معصوم بچی نظر آتی ہے، جس نے پیار کی تلاش میں اپنی پوری دنیا خاموشی میں گزار دی۔ یہ میری داستان کا آغاز ہے—اس بچپن سے، جہاں میں معصوم تھی، اس آج کی عورت تک، جس نے اپنے زخموں کو اپنی طاقت بنا لیا ہے۔ میں وہی ہوں، جو کبھی خاموش تھی، لیکن اب میں اس ہر عورت کی چیخ بن کر بول رہی ہوں جسے چپ کرا دیا گیا ہے۔

Comments
Post a Comment