7 فروری 2013 کا دن میری زندگی کا سب سے یادگار اور خوشیوں بھرا دن تھا۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے ایک ننھی پری کی نعمت سے نوازا۔ جب وہ پہلی بار میری بانہوں میں آئی، تو مجھے لگا جیسے پوری دنیا کی خوشیاں مجھے مل گئی ہوں۔ وہ میری زندگی کا سہارا، میرے جینے کا مقصد بن گئی تھی۔ مجھے لگا کہ اب شاید میری زندگی میں کچھ سکون آئے گا، لیکن سسرال کی دیواریں تو کسی اور ہی سوچ میں قید تھیں۔
پیدائش کے بعد دو دن تو جیسے تیسے گزر گئے، لیکن تیسرے دن ہی امتحان شروع ہو گئے۔ میری نننیں میری بیٹی کے ڈائپر بدلنے پر بھی اعتراض کرتیں اور ایک دوسرے کو بھڑکاتیں۔ میں ایک نئی ماں تھی، جسے خود کو سنبھالنے کی تمیز نہ تھی، اور وہ مجھ پر اپنی انا کا بوجھ ڈال رہی تھیں۔
پھر وہ سردی کا مہینہ، فروری کی ٹھٹھرتی راتیں اور مجھ پر مشقتوں کا پہاڑ! تیسرے دن ہی مجھے کپڑے دھونے کے لیے کہا گیا۔ میری والدہ کی دی ہوئی مشین پر بھی طعنے دیے گئے کہ یہ کتنی چھوٹی ہے، صرف میرے اور میری بیٹی کے لیے ہے۔ اس سے بھی بڑی کربناک بات یہ تھی کہ ولادت کے تیسرے دن، جب جسم میں اتنی ہمت نہیں ہوتی، مجھے اٹھ کر پورے گھر کے لیے چائے بنانے کا حکم دیا گیا۔
میرے ذہن میں بس یہی خیال آتا کہ آخر میں لڑائی کیوں کروں؟ میں نے سوچا کہ جو عورتیں فٹ پاتھوں پر، جھونپڑیوں میں بچے پیدا کرتی ہیں، کیا ان کے بچے مر جاتے ہیں؟ اسی سوچ نے مجھے اٹھنے کی ہمت دی۔ میں ٹھنڈے پانی میں ہاتھ ڈالتی، برتن دھوتی، کھانا پکاتی,اور وہ سب لوگ، جنہوں نے میرے پورے "چلے" کے دوران میرے ہی ہاتھ کا پکا ہوا کھانا کھایا، ذرا بھی شرم محسوس نہ کی۔ میری پہلی بیٹی تھی، میں دن میں کتنی بار اس کے کپڑے بدلتی، اسے سنوارتی، لیکن ان کی تنقید اور طعنے کبھی ختم نہ ہوئے۔
پھر جب "چلہ" ختم ہونے کے قریب آیا، تو ساس نے شوہر سے کہا کہ مجھے میکے بھیج دو۔ جاتے وقت یہ ہدایت کی گئی کہ واپسی پر اپنے میکے سے بیٹی کا سارا سامان، تحفے اور ضروری اشیاء بنوا کر لانا۔ شوہر مجھے چھوڑ آئے، لیکن ایک ہفتہ ہی گزرا تھا کہ ان کا بلاوا آ گیا۔ میری والدہ نے اپنی بیٹی اور نواسی کے لیے محبت سے سونے کی انگوٹھی، چارجنگ والا پنکھا، اور ڈھیروں کپڑے تیار کیے,صرف میرے اور بچی کے لیے نہیں، بلکہ میرے شوہر، ساس، سسر اور نندوں کے لیے بھی تحائف دیے تاکہ کوئی شکایت کا موقع نہ رہے۔
میں اپنی بیٹی کے روشن مستقبل کے خواب دیکھ رہی تھی، لیکن اس گھر کی زنجیریں مجھے ہر قدم پر روک رہی تھیں

Comments
Post a Comment