میں نے خاموشی سے پانچ سال گزار دیے، اپنے بچوں میں ہی خوش رہنے کی کوشش کرتی تھی۔ حال یہ تھا کہ اگر میں کوئی کام نپٹا کر اپنے حصے کے پورشن میں تھوڑا سا آرام کرنے کے لیے آتی، تو فوراً نیچے سے آواز دے دی جاتی تھی، اور پھر میں رات کو ہی اوپر سونے کے لیے جا سکتی تھی۔ اس دوران میرے شوہر میرے ساتھ ٹھیک ہی چل رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے پھر سے ایک اور امید (نئی حمل کی خوشخبری) عطا کر دی۔
اس خبر پر میں پھوٹ پھوٹ کر روئی اور دل میں سوچا کہ "یا اللہ! اب مجھے کوئی بچہ نہیں چاہیے، میں پہلے ہی حالات کے ہاتھوں بہت ذلیل ہو چکی ہوں۔" حمل کو ضائع کرنے کی فکر میں میں نے اکیلے ہی بھاری بھرکم کارپیٹ اٹھائے، خود ہی انہیں دھویا اور ہر ممکن کوشش کی کہ حمل گر جائے، لیکن جس روح نے اس دنیا میں آنا ہو، وہ آ کر رہتی ہے۔ تمام تگ و دو کے باوجود جب حمل برقرار رہا تو میں یہی سوچتی رہتی تھی کہ اب میں زچگی (چلے) کے لیے کس کے گھر جاؤں گی؟ میرے شوہر نے مجھے تسلی دی اور کہا کہ "تم ٹینشن نہ لو، سب یہیں کرو گی۔"
اس وقت تک میری ساس کا انتقال ہو چکا تھا اور گھر میں صرف سسر موجود تھے۔ خیر, وقت گزرتا رہا اور جب حمل کے آخری دن قریب آئے تو میری نندوں نے میرے شوہر کے کان بھرنا شروع کر دیے کہ "اسے امی کے گھر بھیج دو، ہم تو بچیاں ہیں، ہم کیسے دیکھ بھال کریں گی؟" میرے شوہر چونکہ اپنی بہنوں سے بہت ڈرتے تھے, اس لیے ان کی باتوں میں آ گئے اور مجھ سے کہنے لگے کہ اپنی ماں کو بتا دو اور ڈیلیوری کے بعد وہیں چلی جانا۔
میں نے فوراً سختی سے انکار کر دیا کہ میں کہیں نہیں جاؤں گی، میں اپنے ہی گھر رہ کر سب کروں گی، اپنی ماں کے گھر نہیں جاؤں گی۔ بالآخر جب دردِ زہ (pains) شروع ہوئیں تو میں اسپتال چلی گئی۔ مجھے اس بات کا بالکل علم نہیں ہوا کہ میرے پیچھے سے میری نندوں نے میرا بیگ اس غرض سے تیار کر کے رکھ دیا تھا کہ اب مجھے سیدھا ماں کے گھر ہی جانا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے مجھے 6 نومبر کو صبح 6 بجے چاند سے بھی زیادہ حسین بیٹا عطا کیا۔ اس وقت سب بہت خوش ہوئے، یہاں تک کہ میرے شوہر نے مجھ سے کہا کہ "امی کو فون کر کے بتا دو کہ میرے گھر بیٹا ہوا ہے اور میں اب آ رہا ہوں۔"
یہ سنتے ہی میری آنکھوں میں آنسو بھر آئے، میں نے کہا کہ میں نے میکے نہیں جانا، مجھے زبردستی مجبور کیا جا رہا ہے۔ جب میں نے مجبوری میں اپنی ماں کو کال کر کے بتایا کہ بیٹا ہوا ہے اور میں آ رہی ہوں، تو میری ماں نے آگے سے سخت لہجے میں کہا کہ "نہیں! ہمارے گھر مت آنا، اپنے ہی گھر کرو۔"اس لمحے میں اندر سے بالکل ٹوٹ کر بکھر گئی، جب مجھے یہ احساس ہوا کہ نہ تو سسرال والے مجھے اپنے پاس رکھنے کو تیار ہیں اور نہ ہی میکے والے مجھے اپنانے کے روادار ہیں۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں