"میری ہمت اب جواب دے رہی ہے۔ الفاظ کا یہ بوجھ اٹھانا اور ماضی کی ان تلخ گلیوں میں دوبارہ بھٹکنا میرے لیے آسان نہیں ہے۔ اس کہانی کے اوراق ابھی بہت باقی ہیں، لیکن آج کے لیے اتنا ہی کافی ہے۔ باقی داستان میں کل سناؤں گی۔
بس اتنا کہنا چاہوں گی کہ مجھے اپنی بیٹی سے خوف نہیں لگتا، وہ تو میری زندگی کا سب سے خوبصورت تحفہ ہے۔ مجھے خوف آتا ہے تو بس اس کے نصیبوں سے.کہ کہیں اسے بھی میری طرح ان دیواروں اور انا کی قید میں نہ جینا پڑے۔ کبھی کبھی میں خاموشی سے اپنے ہاتھوں کی لکیروں کو دیکھتی ہوں اور سوچتی ہوں کہ یا اللہ! کیا میری تقدیر میں بس یہی لکھا ہے؟ پھر میرے ذہن میں خیال آتا ہے کہ دنیا میں ان لوگوں کی بھی تو قسمت ہوتی ہے جن کے ہاتھ تک نہیں ہوتے، وہ بھی تو جیتے ہیں۔ میرے تو ہاتھ بھی سلامت ہیں، پھر میں اپنی لکیروں کے اس جبر سے کیوں نہیں نکل پا رہی؟ کیا میری یہ لکیریں صرف سسرال کے برتن مانجھنے اور طعنے سننے کے لیے بنی ہیں؟
اب بس اور ہمت نہی. باقی کل!
Comments
Post a Comment