آنسوؤں کا سفر اور اپنوں کی بے حسی: موت مانگتی ایک بے بس ماں

 پچھلے ہفتے جب مجھے اپنا چیک اپ کروانے اسپتال جانا تھا، تو میرے شوہر میرے ساتھ گئے تھے۔ راستے میں ہی میری ساس اور نندو کا فون آ گیا اور انہوں نے میرے شوہر پر دباؤ ڈالا کہ "اسے اس کی ماں کے گھر چھوڑ کر آؤ، وہیں چلہ کرے گی۔"

میرے شوہر نے ان سے صاف کہہ دیا: "میں کام والی رکھ لوں گا، یہ یہیں اپنے گھر پر ہی چلہ کرے گی۔"

یہ سننا تھا کہ وہ آگ بگولہ ہو گئیں۔ غصے سے پاگل ہو کر انہوں نے طوفان کھڑا کر دیا۔ جیسے ہی میں اسپتال سے واپس گھر پہنچی، میری نندوں اور ساس نے فوراً مجھ پر حملہ بول دیا، لڑنا شروع کر دیا اور مجھ پر الزام لگایا کہ "تم نے ہمارے بیٹے کے کان بھر دیے ہیں!"

ان کی باتیں سن کر میرا کلیجہ منہ کو آ گیا۔ وہ مجھ سے کہنے لگیں: "اگر تمہاری ماں تمہیں اپنے گھر نہیں رکھ سکتیں، تو ان سے ہمیشہ کے لیے تعلق ختم کر دو!"

ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر سوچئیے... کوئی کسی ماں سے تعلق کیسے ختم کر سکتا ہے؟ کیا خون کے رشتوں کو اتنی آسانی سے کاٹا جا سکتے ہے؟ انہوں نے لڑ لڑ کر، طعنے دے دے کر مجھے ذہنی طور پر پاگل کر دیا۔ مجھ سے مزید برداشت نہ ہوا اور میں پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی۔

روتے روتے، اس کرب اور بے بسی کے عالم میں، میرے منہ سے وہ الفاظ نکل گئے جو آج بھی میرے دل کو چیر دیتے ہیں۔ میں نے سب کے سامنے روتے ہوئے کہا: "یہ بچہ بھی پیدا ہی نہیں ہو رہا... یا اللہ! تو مجھے بھی موت دے دے اور میرے اس بچے کو بھی موت دے دے! میرے پیٹ میں جو بچہ ہے، ہم دونوں مر جائیں تاکہ اس عذاب سے جان چھوٹ جائے!"

وہ درد اور ذہنی اذیت اتنی بڑھ چکی تھی کہ مجھے زندگی سے زیادہ موت حسین لگنے لگی تھی۔

اس ہنگامے کے بعد میں لڑکھڑاتے ہوئے اوپر اپنے پورشن میں گئی، کانپتے ہاتھوں سے اپنی امی کو فون ملایا۔ روتے روتے میرا گلا بیٹھ چکا تھا، میں نے سسکتے ہوئے کہا: "امی! اللہ کے واسطے مجھے اپنے پاس رکھ لو، مجھے کسی خدمت کی ضرورت نہیں ہے، یہ سسرال والے مجھے ڈھکی دے رہے ہیں۔، یہ مجھے جینے نہیں دے رہے!"

امی نے دلاسہ دیتے ہوئے کہا: "رو مت، تیری ماں زندہ ہے، آ جا میرے پاس!"

میں نے اسی رات، اپنے آنسوؤں اور دل کے ٹکڑوں کو سمیٹ کر، اپنی ضرورت کی سب چیزیں اٹھائیں اور میکے چلی آئی۔

دل کا یہ بوجھ، یہ تنہائی اور اپنوں کے دیے ہوئے یہ زخم... کیا ان کا کوئی مرہم ہے؟

(صفحہ ابھی باقی ہے...)


Comments