اندھیرے کے بعد اجالا: بیٹے کی پیدائش اور اپنوں کے طعنے

اکیس (21) اپریل کی صبح ٹھیک دو بجے میری طبیعت اچانک بہت زیادہ خراب ہو گئی۔ میری ایک بہت پیاری بہن نے کہا کہ "تم پریشان نہ ہو، میں تمہارے ساتھ اسپتال چلوں گی۔"
میں رات کو ہی اسپتال روانہ ہو گئی، اور کچھ ہی دیر میں میری وہ پیاری بہن بھی وہاں پہنچ گئی۔ ادھر شوہر کو بھی کال کر دی تھی، تو سسرال والے اور شوہر بھی سب اسپتال آ گئے۔ اور پھر صبح  کے وقت اللہ تعالیٰ نے مجھے ایک چاند سا پیارا بیٹا عطا کر دیا۔
پیدائش کے بعد میں نے اپنے آپ کو اس قدر مضبوط اور فٹ رکھا کہ دیکھنے والے کو یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ ابھی میری ڈیلوری ہوئی ہے۔ بیٹے کا چہرہ دیکھ کر سب کے چہروں پر خوشی دوڑ گئی، اور پھر میں اپنے میکے (امی کے گھر) چلی آئی۔
ان دنوں میری ایک اور بہن بھی میکے میں ہی آئی ہوئی تھی۔ لیکن جب اس کے شوہر کو پتہ چلا کہ اس کی بیوی کے مائیکے میں ایک اور بہن (یعنی میں) کی ڈیلیوری ہوئی ہے اور کہیں اسے میری خدمت نہ کرنی پڑ جائے، تو وہ فوراً آیا اور اپنی بیوی کو زبردستی واپس لے گیا تاکہ اسے میری ذرا بھی خدمت نہ کرنی پڑے۔
میری حالت یہ تھی کہ مجھے دیکھ کر کسی کو لگتا ہی نہیں تھا کہ آج ہی میرا بیٹا ہوا ہے۔ میں بالکل نارمل اٹھ کر بیٹھ جاتی تھی، تو سب لوگ محبت سے ڈرانے لگتے کہ "ایسے نہ اٹھو، بچے کو یا تمہیں کسی کی نظر لگ جائے گی۔"
ابھی میرا بیٹا صرف پانچ دن کا ہوا تھا کہ اس کی سنت (خاتنہ) کروانے کی بات چلی۔ میرے ایک بھائی نے کہا کہ "تم فکر نہ کرو، ہم بچے کی خاتنہ یہیں کروا دیتے ہیں۔"
میں نے اپنے بھائی سے کہا: "نہیں بھائی، میرے سسرال والے خود کروائیں گے، یہ ان کا حق ہے۔"
میری بات سن کر پاس ہی بیٹھی میری بھابی فوراً بول پڑیں: "لو! وہ کیوں کروائیں گے اور باتیں بنائیں گے؟ انہیں ذرا بھی شرم نہیں ہے جو پیٹ پر لات مار کر تمہیں گھر سے نکال کر بھیج دیا تھا!"
بھائیوں کے سامنے بھابی کی ان جلی کٹی اور تلخ باتوں نے میرا دل چیر دیا۔ میں کمرے میں اکیلی بیٹھ کر پھوٹ پھوٹ کر روئی اور سوچتی رہی کہ آخر میرا اپنا گھر ہے کہاں؟ میں کہاں جاؤں؟ اگر میں ماں کے گھر بھی پناہ لوں، تو وہاں بھی طعنے میرا پیچھا نہیں چھوڑتے۔
پھر پندرہ (15) دن گزرنے کے بعد سسرال والوں کا فون آ گیا کہ "کل تم واپس گھر آ جاؤ۔" انہیں شاید اندازہ ہو گیا تھا کہ اب میرا چالیس دن کا ناگوار عرصہ (چلہ) پورا ہونے کو ہے اور میں واپس جا کر ان کے گھر کے سارے کام سنبھال لوں گی۔
بیٹی کی پیدائش پر بھی میری امی نے اپنی حیثیت سے بڑھ کر سسرال والوں کو ان کی پسند کے کپڑے، پیسے، اور انگوٹھیاں دی تھیں تاکہ وہ کبھی کوئی بات نہ بنا سکیں۔ اور اس بار بھی بیٹے کی خوشی میں سب کچھ ویسے ہی نبھایا گیا۔
میں نے مجبوراً ایک بار پھر اپنے بچوں کے ساتھ اسی گھر میں جینا شروع کر دیا، یہ سوچ کر کہ شاید اب حالات بدل جائیں گے۔ لیکن دل کے اندر بیٹھا وہ خوف اور اپنوں کی بے رخی کا ناسور آج بھی رس رہا ہے۔ کیا اس زندگی میں کبھی مجھے حقیقی سکون اور اپناپن نصیب ہوگا، یا میرا مقصود صرف آزمائشیں ہی رہ گئی ہیں؟

Comments