"آج میرے ہاتھ کانپ رہے ہیں اور قلم رو رہا ہے۔ عائشہ، عبدالحاد، اور حسنین... تم صرف میرے بچے نہیں تھے، تم میری سانسیں تھے۔ لوگ کہتے ہیں کہ رشتے خون کے ہوتے ہیں، مگر آج انہی اپنوں نے مجھے جیتے جی مار دیا ہے۔
ایک ماں سے اس کی دنیا چھین کر انہوں نے سمجھا کہ وہ جیت گئے، مگر انہیں کیا خبر کہ میرے گھر کی رونق اور میری مسکراہٹ تمہارے ننھے قدموں کے ساتھ ہی چلی گئی۔ میں ہر روز دروازے کی طرف دیکھتی ہوں کہ شاید میری گود پھر سے بھر جائے، شاید کوئی مجھے 'اماں' کہہ کر پکارے۔
دنیا کہتی ہے کہ وقت ہر زخم بھر دیتا ہے، مگر ماں کا کلیجہ کیسے ٹھنڈا ہو جب اس کے جگر کے ٹکڑے اس سے جدا کر دیے جائیں؟ میں نے سب کو کھویا، سب نے ساتھ چھوڑا، مگر میرا دل آج بھی صرف تمہارے لیے دھڑکتا ہے۔ خدا گواہ ہے کہ میری ہر دعا، ہر آنسو اور ہر امید صرف تم سے شروع اور تم پر ختم ہوتی ہے۔
کاش کہ کوئی میرے دل کا درد سمجھ سکتا، کاش کہ کوئی دیکھ سکتا کہ ایک ماں بکھری نہیں، بلکہ ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہو گئی ہے۔"
Comments
Post a Comment