سسرال کی دہلیز پار کرتے ہوئے میری آنکھوں میں خواب تھے، لیکن وہ خواب کس قدر عارضی تھے، اس کا اندازہ مجھے چند ہی گھنٹوں میں ہو گیا۔ وہ تین تولے کا سیٹ، جو مجھے سسرال میں داخل ہوتے وقت پہنایا گیا تھا، وہ میری خوشی نہیں بلکہ ایک نمائش تھی، جو اگلے ہی دن مجھ سے واپس لے لی گئی۔ وہ سونا میرے نصیب میں کہاں تھا؟ اسے تو بس ایک لمحے کے لیے میری ذات پر سجا کر دنیا کو دکھانا مقصود تھا، اور پھر اسے واپس الماری کے کسی اندھیرے کونے میں چھپا دیا گیا۔ میں نے سوچا تھا کہ وہ میری زینت بنے گا، لیکن اسے دیکھنا تو دور، دوبارہ پہننا بھی میرے لیے ایک خواب بن گیا۔
لیکن وہ زیور تو صرف ایک شروعات تھی۔ میرے گھر والوں نے جو سونا میری ساس اور میرے شوہر کو بھی تحفے میں دیا تھا، وہ بھی اسی ایک الماری کی نذر ہو گیا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے اس گھر میں داخل ہوتے ہی سب کچھ ایک ایسی بے رحم گرفت میں چلا گیا جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ نہ تھا۔
اس گھر کا ماحول عجیب تھا.ایک ایسا "عورت راج" جہاں مرد کا وجود محض ایک رسمی خانہ پری تھا۔ میرے سسر، جو بظاہر گھر کے سربراہ تھے، اور میرے شوہر، جو خود ایک تعلیم یافتہ انسان ہیں، ان کی آواز اس گھر کی دیواروں سے ٹکرا کر دم توڑ دیتی تھی۔ وہاں حکم کسی اور کا چلتا تھا، فیصلے کہیں اور بیٹھ کر ہوتے تھے، اور ہم سب تو بس کٹھ پتلیوں کی طرح ان فیصلوں پر عمل کرنے کے پابند تھے۔
مجھے یہ احساس شدت سے ہوتا تھا کہ اس گھر میں میری آواز کی کوئی گونج نہیں۔ میں نے اپنا زیور تو کھویا ہی تھا، لیکن اس سے بڑھ کر میں اپنی وہ خود مختاری کھو رہی تھی جس کا خواب لے کر میں اس گھر میں آئی تھی۔ وہ سونا جو میرے خاندان نے محبت سے دیا تھا، اب وہ ان کی ملکیت تھا، اور میں اپنی ہی چیزوں کو ان کے ہاتھوں میں قید دیکھ کر اندر ہی اندر ٹوٹ رہی تھی۔ کیا یہی وہ "عورت کا گھر" ہے جس کے لیے ایک لڑکی اپنا میکہ چھوڑ کر آتی ہے؟ جہاں اس کے اپنے تحفے، اس کی اپنی چیزیں، اور اس کی اپنی رائے تک سلب کر لی جاتی ہے؟

Comments
Post a Comment