بچپن کے دنوں سے لے کر آج تک، میری زندگی صرف ایک ہی تلاش کا سفر رہی ہے—اور وہ ہے "محبت"۔
چھوٹی تھی تو سوچا بہن بھائیوں کے درمیان اپنا حصہ ڈھونڈ لوں، ماں باپ کی توجہ اور پیار کے لیے ترستی رہی۔ لیکن وہاں بھی ہمیشہ یہی محسوس ہوا جیسے میں سب کے لیے ایک بوجھ ہوں، ایک ایسی ضرورت جسے صرف نبھانا پڑتا ہے، چاہتا کوئی نہیں۔
جب شادی ہوئی، تو لگا شاید اب زندگی بدل جائے گی۔ ایک نیا گھر، ایک نیا ساتھی... دل نے کہا کہ اب ساری تھکاوٹ مٹ جائے گی اور مجھے وہ شخص مل جائے گا جو میرے ہر درد کو سمجھے گا۔ شوہر کے اندر پیار کی تلاش کی، سخت-مزاج اور بے رخی کے سمندر میں محبت کا ایک قطرہ ڈھونڈتی رہی۔ پھر سسرال کے ہر رشتے کو اپنانے کی کوشش کی، سب کو خوش رکھنے کے لیے اپنی خواہشیں مار دیں۔ لیکن بدلے میں کیا ملا؟ صرف طعنے، الزامات، اور اکیلاپن۔
زندگی کا یہ سفر ایک ایسی دلدل بن گیا جہاں جس جس کے ساتھ بھی بھلائی کی، جس کو بھی اپنا سمجھا، اسی نے پیٹھ میں خنجر گھونپ دیا۔ ہر رشتے میں صرف دھوکہ، فریب اور بے رخی ملی۔ اپنوں کے ہاتھوں اتنا ٹوٹی کہ اب لگتا ہے کہ روح بھی زخم زخم ہو چکی ہے۔
کتنی ہی راتیں ایسی گزریں جب سجدے میں سر رکھ کر اللہ سے صرف ایک ہی دعا مانگی کہ "یا اللہ، میری روح قبول کر لے، مجھے اس دنیا سے اٹھا لے، مجھے موت دے دے۔" لگتا تھا کہ اب سانسیں لینا بھی بوجھ بن گیا ہے۔
لیکن اپنوں کے اس روپ کی کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی۔
میری ایک بہن تھی، جو شروع سے مجھ سے حسد کرتی تھی۔ اوپر سے تو ہمیشہ پیار کا دکھاوا کرتی، چہرے پر میٹھی مسکان سجائے رکھتی، لیکن دل میں میرے لیے صرف نافرت اور جلن رکھتی تھی۔ اور بھابیاں... بھابیاں تو پھر بھابیاں ہی ہوتی ہیں، ان سے اپنا پن کی کیا امید رکھی جاتی۔
سب سے زیادہ تکلیف اس بات نے دی کہ میں اپنے بڑے بھائی سے بہت پیار کرتی تھی۔ میرے نزدیک وہ بھائی نہیں، میرے باپ کی جگہ تھے، جن کی چھاؤں میں مجھے تحفظ کا احساس ہونا چاہیے تھا۔ لیکن اندر ہی اندر مجھے ہمیشہ یہی محسوس ہوتا رہا کہ ان کے دل میں میرے لیے وہ خلوص، وہ اپناپن اور وہ پیار ہے ہی نہیں جو ایک باپ یا بھائی کا ہونا چاہیے۔ ہر رشتے میں بس ایک دکھاوا اور فاصلہ ہی ملا۔
کتنی عجیب بات ہے نا؟ خون کے رشتے، جنہیں ڈھال ہونا چاہیے تھا، وہی تیر برسانے والے بن گئے۔
شاید موت بھی میرے نصیب میں اتنی آسانی سے نہیں تھی۔ جتنی زندگی اس رب نے لکھ دی ہے، وہ تو گزارنے ہی ہے نا؟ سانسیں چل رہی ہیں، جسم زندہ ہے، پر اندر سے سب کچھ ختم ہو چکا ہے۔
اب تک میں نے اپ کے دیے ہوئے ہر زخم کو چپ چاپ سہاہے، لیکن اب اس بکھرے ہوئے وجود کے ساتھ آگے جینا کیسے ہے؟ جب اپنوں کے گھر میں ہی اجنبی بن کر رہنا پڑے، تو کیا اس دنیا میں جینے کا کوئی اور مقصد ڈھونڈا جا سکتا ?
Comments
Post a Comment