صدمات کا سفر: تنہا سسکیوں اور زخموں کی داستان

 میری زندگی کی اس ویرانی میں بس ایک ہی روشنی تھی میری بیٹی۔ میرے شوہر کو شوگر تھی اور وہ انسولین کے شدید مریض تھے۔ میری ہر دعا کے مرکز بس وہی ہوتے تھے، میں راتوں کو اٹھ کر سجدوں میں روتی اور دعا مانگتی: *"یا اللہ! میرے شوہر کو سلامت رکھنا، میرے اور میری بیٹی کے سر پر ان کا سایہ قائم رکھنا۔"* کیونکہ ایک عورت کے لیے اس کی دنیا، اس کا سب کچھ اس کا شوہر ہی تو ہوتا ہے، وہی اس کا واحد سہارا اور شناخت ہوتا ہے۔

میں ہمیشہ سے یہی دعا کرتی تھی کہ یا اللہ! میری فیملی کو مکمل کر دے، ہمارے گھر میں کسی اور کی بھی خوشی آ جائے۔ اور پھر وہ دن آیا جب مجھے اللہ نے خوشخبری دی کہ میرے گھر ایک اور نئی زندگی آنے والی ہے۔ ہم دونوں میاں بیوی اس خبر پر بہت خوش ہوئے، دل میں ایک نئی امید جاگ اٹھی تھی خوشیوں کے اس موڑ پر بھی آزمائشوں نے ہمارا پیچھا نہیں چھوڑا۔ اسی دوران میری ساس کو کینسر ہو گیا۔ میں نے کبھی انہیں ساس سمجھا ہی نہیں، وہ ہمیشہ میری ماں کی طرح تھیں۔ اس حالت میں بھی، جب خود میرا جسم اور میری حالت نازک تھی، میں نے ہمت نہیں ہاری اور ان کی خدمت کرتی رہی۔

پھر وہ وقت بھی قریب آ گیا جب میرا نواں مہینہ چل رہا تھا۔ ایسے نازک ترین وقت میں میرے سسرال والوں نے ایک ایسا فیصلہ سنایا جس نے اندر سے توڑ کر رکھ دیا۔ انہوں نے کہا: *"بچہ اپنی ماں کے گھر کرنا، کیونکہ یہاں تمہاری طبیعت خراب ہے اور بچیاں تو کنواری ہیں، انہیں ان چیزوں کا کیا پتا۔"*

ذرا سوچیے! پینتالیس (45) پچاس (50) سال کی بڑی عورتوں کو وہ "بچیاں" کہہ رہے تھے، اور ایک نو مہینے کی حاملہ بہو کو بوجھ سمجھ کر گھر سے دھکیلنے کی تیاری کر رہے تھے۔

میں یہ سن کر بالکل خاموش ہو گئی۔ دل پر جیسے کوئی پتھر رکھ دیا گیا ہو۔ میں نے ہمت کر کے اپنی امی کو فون کیا اور بتایا کہ ساس کہہ رہی ہیں کہ بچہ ماں کے گھر کرنا، آپ بتائیں میں کیا کروں؟

امی نے جواب دیا: *"بیٹی! بھابیاں باتیں بنائیں گی، تم اپنا بچہ سسرال میں ہی کرنا۔"*

اس جواب نے مجھے اور زیادہ اکیلا کر دیا۔ میں بہت پریشان ہوئی، دل پھٹنے لگا۔ میں نے اپنے شوہر سے صاف کہہ دیا: *"میں نے امی کے گھر نہیں جانا، میں نے یہیں اپنے گھر پر سب کرنا ہے۔ بس ایک دو دن کی بات ہے، میں اٹھ جاؤں گی اور اپنا کام خود سنبھال لوں گی۔ پہلے کون سا انہوں نے میری کوئی خدمت کرنی ہے یا کی ہے؟"*

دل کے یہ زخم اتنے گہرے تھے کہ الفاظ بھی کم پڑ جاتے ہیں۔ لیکن یہ کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی...

*(صفحہ ابھی باقی ہے...)**

Comments