شادی کے بعد سے ہی نند کا رویہ اور ان کی چال بازیاں میری زندگی کا مستقل عذاب بن چکی تھیں۔ شادی شدہ نند روزانہ میکے چلی آتی تھی، اور اگر کبھی اتفاق سے ایک دن وہ نہ آتی تو پورے گھر میں کہہرام مچ جاتا اور سب کی طبیعت خراب ہونے لگتی تھی۔ میرے شوہر اپنی بہنوں سے اس قدر خائف اور ڈرتے رہتے تھے کہ اس گھر میں ایک مرد کی حیثیت اور اس کا کوئی مقام ہی باقی نہیں بچا تھا۔
میری شادی ایک ایسے ماحول میں ہوئی جہاں میری ایک بڑی اور غیر شادی شدہ نند جادو ٹونے اور تعویز والوں کے پاس جانے کی عادی تھی۔ وہ دل و جان سے چاہتی تھی کہ کسی طرح مجھے طلاق دلوا کر اس گھر سے باہر نکال دے، تاکہ میرے شوہر اور میرے معصوم بچوں کو وہ خود ہتھیا لے۔ چونکہ وہ لوگ میری شادی کے خلاف تھیں، اس لیے وہ میرے بچوں کو ہی اپنا سہارا اور مستقبل بنانا چاہتی تھیں تاکہ الگ ہونے کے لیے میں خود اپنے شوہر سے طلاق یا جدائی کی مانگ کر لوں۔
دل تو میرا بھی بہت کرتا تھا کہ اپنے شوہر سے الگ گھر کی مانگ کر لوں، لیکن میری شرافت اور سوچ یہ اجازت نہیں دیتی تھی کہ بوڑھے ماں باپ کا ایک ہی تو اکلوتا بیٹا ہے۔ میں یہی سوچتی تھی کہ اگر میں نے اپنے شوہر کو الگ کر لیا تو کل کلاں میرے ساتھ بھی یہی سلوک ہو سکتا ہے، کیونکہ ہر انسان کی سوچ ایک جیسی نہیں ہوتی۔
حالت یہ تھی کہ میرے شوہر مجھے اپنے میکے جانے کی اجازت ہی نہیں دیتے تھے، اور اگر کبھی مجبوری میں ایک دن کے لیے بھی بھیج دیتے تو کال پہ کال کر کے فوراً بلوا لیتے تھے۔ ہماری مشترکہ فیملی (joint family) کا نظام ایسا تھا جہاں ہر چیز چھپا کر رکھی جاتی تھی۔ کھانے پینے کی اچھی چیزوں پر تالے لگائے جاتے تھے، اور میرے شوہر اگر چھپ کر میرے لیے کوئی چیز لے بھی آتے، تو اگلی ہی صبح اس نند کو پتہ چل جاتا تھا کیونکہ وہ میرا کوڑے دان (dustbin) تک چیک کرتی تھی تاکہ معلوم ہو سکے کہ میں نے کیا کھایا ہے۔
جب میرا بیٹا ابھی چند ماہ کا ہی تھا، تو میرے شوہر کو شوگر کی وجہ سے پاؤں میں زخم ہو گیا،جو تیزی سے بڑھنے لگا۔ ڈاکٹرز نے یہاں تک کہہ دیا کہ اگر انفیکشن ہڈی تک پہنچ گیا تو مجبوری میں پاؤں کاٹنا پڑے گا۔ اس مشکل وقت میں، میں اللہ کے آگے سجدہ ریز ہو کر رات بھر روتی اور دعائیں مانگتی کہ "یا اللہ! میرے بچوں کے سر پر ان کے باپ کا سایہ سلامت رکھ۔"ان کا آپریشن ہوا اور وہ پورے آٹھ دن اسپتال میں رہے۔ مردانہ وارڈ ہونے کی وجہ سے وہاں رات کو رکنے والا کوئی اور مرد موجود نہیں تھا، تو سسرال والوں نے صاف کہہ دیا کہ بیوی ہی ساتھ رہے گی۔ میں نے پورا ابایا پہن کر، اپنی تمام تر مشکلات کو پس پشت ڈال کر پورے آٹھ دن رات ان کے ساتھ اسپتال میں گزارے۔
آخری دن حالت اتنی بگڑ گئی کہ مجھے شدید پیچش (loss motion) لگ گئے اور بخار 103 ڈگری تک پہنچ گیا۔ جب مجھ سے مزید برداشت نہ ہوا تو میں نے نند سے کہا کہ "بس اب میری مزید ہمت ختم ہو چکی ہے، میری حالت بہت خراب ہے، مجھے اب گھر جانا ہوگا۔"
(ابھی کہانی کا یہ صفحہ اور سفر باقی ہے...)

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں