کچھ درد ایسے ہوتے ہیں جو لفظوں کی قید میں نہیں آ سکتے، اور ایک ماں کا درد ان سب سے الگ، سب سے گہرا اور روح کو چیر دینے والا ہوتا ہے۔ لوگ کہتے ہیں وقت مرہم ہے، وقت ہر زخم بھر دیتا ہے... لیکن کسی نے شاید یہ نہیں بتایا کہ کچھ زخموں پر وقت بھی صرف دھول ڈال دیتا ہے، انہیں مٹا نہیں سکتا۔
جب بھی میں اپنی کہانی لکھنے بیٹھتی ہوں، جب بھی اپنے پچھلے وقت کو، اپنے سفر کو یاد کرتی ہوں، میرے بچے میری آنکھوں کے سامنے آ جاتے ہیں۔ اور اس پل... دل چاہتا ہے کہ یہ سانسیں یہیں رک جائیں۔ میرا دل پھٹنے لگتا ہے، سینہ ایسے بھینچنے لگتا ہے جیسے کسی نے بے رحم ہاتھوں سے میری سانس کھینچ لی ہو۔
ایسا درد، ایسی چبھن... اسے صرف ایک ماں ہی جان سکتی ہے۔
لوگ کہتے ہیں صبر کرو، دل کو مضبوط رکھو۔ مگر وہ یہ نہیں جانتے کہ جس عورت کی پہچان اس کے بچوں سے ہو، جس کا دل، جس کی روح اس کے بچوں میں بستی ہو، اس کے لیے ان سے دوری یا ان کی یاد کسی عذاب سے کم نہیں ہوتی۔ جب رات گہرا جاتی ہے، جب ہر طرف خاموشی ہوتی ہے، تب ان کی ہنسی، ان کی آوازیں، ان کے چھوٹے چھوٹے قدم میرے کانوں میں گونجتے ہیں۔ میں اپنا ہاتھ اپنے دل پر رکھ لیتی ہوں کہ شاید یہ دھڑکنا بند نہ کر دے، کیونکہ اس وقت درد کی شدت برداشت سے باہر ہو جاتی ہے۔
خدایا! مجھ پر رحم کھا لے! اس دل کی بے قراری کو سکون دے۔
ایک ماں کا دل کتنا کمزور ہوتا ہے، یہ صرف وہی جانتی ہے جو اپنے بچوں کے لیے تڑپتی ہے۔ میری آنکھوں میں آنسو ہیں اور ہر آنسو پر ان کا نام لکھا ہے۔ اے ربِ کائنات! تو تو دلوں کے حال جانتا ہے، تو اس ماں کی بے بسی پر رحم فرما۔ میرے بچوں کو اپنی حفظ و امان میں رکھ اور میرے اس پھٹے ہوئے دل کو قرار عطا فرما۔ یہ درد اتنا گہرا ہے کہ بیان سے باہر ہے، بس اتنا جانتی ہوں کہ سانس لینا بھی دشوار ہو گیا ہے۔
اللہ صبر دے، کیونکہ اس درد کے سامنے اب کوئی اور لفظ باقی نہیں بچا
Comments
Post a Comment