شوہر کی بیماری اور میری آزمائش

 ​میری بیٹی ابھی صرف چھ مہینے کی تھی جب میرے شوہر کو لقوا ہو گیا۔ ایک ماں جانتی ہے کہ جب چھوٹی سی بچی کو کوئی تکلیف ہوتی ہے تو وہ صرف اپنی ماں کی طرف دیکھتی ہے اور اسے پکارتی ہے۔ اس مشکل گھڑی میں، جب میں نے گھبرا کر اپنی امی کو روتے ہوئے فون کیا اور بتایا کہ شوہر کو لقوا ہو گیا ہے، تو وہ بھی بہت پریشان ہوئیں۔

​رات کے دس بجے میرے ایک اور بھائی اور ان کی اہلیہ میرے شوہر کی عیادت کے لیے آئے۔ لیکن اس انسانیت پر بھی سسرال والوں کا رویہ دیکھیں۔ اس کے ایک گھنٹے بعد میری نند کالی سے چائے بنا کر لائیں، مجھے باہر بلایا اور طعنہ دیا: "تم نے یہ کیا مصیبت ڈال دی ہے اس وقت، اپنے گھر والوں کو بتا کر؟" حالانکہ میرے شوہر کی طبیعت اتنی خراب تھی، میں نے دن رات ان کا خیال رکھا تھا، مگر میں اس وقت بھی خاموش رہی اور ایک لفظ منہ سے نہیں نکالا۔

​اگلے دن میری بہن اپنے شوہر کے ساتھ میرے شوہر کی عیادت (پتہ لینے) کے لیے آئیں۔ نیچے سلام دعا کے بعد جب انہوں نے کہا کہ "ہم اوپر جا رہے ہیں بھائی کا پتہ لینے"، تو میری نند نے ان کا رستہ روک کر کھڑی ہو گئیں اور بولیں کہ "آپ اوپر نہیں آ سکتی ہیں، میں نیچے بلوا لیتی ہوں"۔ یہ دیکھ کر میری بہن شدید شرمندہ ہوئیں۔

​میں کچن میں چائے بنا رہی تھی کہ اتنے میں میری خالہ اور خالو بھی آ گئے۔ میری نند نے وہیں کچن میں مجھ پر لڑائی شروع کر دی کہ "تم نے کیوں بتایا تھا، ہم سے اجازت لے کر بتانا تھا!"

​اس وقت میں نے خون کے گھونٹ پی کر صرف اس لیے صبر کیا کہ وہ میرے گھر والے ہیں اور کوئی تماشہ نہ لگ جائے۔ مجھے بیمار شوہر ملا تھا، جن کا بستر میں روزانہ خود دھوتی تھی، اور اوپر سے سسرال والوں کا یہ ظلم! میں چائے لے کر اندر گئی، اور اس کے آدھے گھنٹے بعد جب میری خالہ جانے لگی تو انہوں نے میری بہن سے کہا کہ "تم ابھی یہیں رہو، اتنے دور سے آئی ہو"۔ میں نے اپنی بہن کے آگے ہاتھ جوڑے اور اللہ کے واسطے کہا کہ "تم چلی جاؤ، میں بہت روئی ہوں..."

​اس کے بعد میں نے پورے دو مہینے دن رات اپنے بیمار شوہر کی خدمت کی،

Comments