بچوں کی مسکراہٹ میں کھوئی ہوئی ماں اور پرانی فضا

 وقت کا پتہ ہی نہیں چلا، میں نے اپنی تمام توجہ، اپنا سارا پیار اپنے بچوں میں سمو لیا۔ وہ چھوٹے چھوٹے معصوم چہرے، ان کی ہنسی، ان کی باتیں,


یہی میری چھوٹی سی کائنات بن گئے تھے۔ میں اپنے بچوں کے ساتھ ہستی مسکراتی، ان کو پیار کرتی، چومتی اور انہی میں اپنی خوشیاں تلاش کرنے لگی تھی۔

شوہر اپنی جگہ ٹھیک تھے، وہ مجھ سے محبت بھی کرتے تھے اور گھر کی حد تک اچھے بھی تھے، لیکن ان کے کان بھرنے والے پیچھے نہیں ہٹتے تھے۔ سسرال والے یا وہ لوگ جو ہمارے درمیان فاصلے چاہتے تھے، وہ مسلسل میرے شوہر کے کان بھرتے رہتے تھے۔ میرے خلاف باتیں بنانا، چھوٹی چھوٹی باتوں کو رائی کا پہاڑ بنانا اور میرے شوہر کے دل میں میرے لیے زہر گھولنا ان کا روز کا معمول بن چکا تھا۔

شوہر باہر سے آتے تو ان کا رویہ بدلا ہوا محسوس ہوتا، آنکھوں میں ایک انجانہ سا شک اور سرد مہری دکھائی دیتی۔ میرا دل کانپ جاتا یہ سوچ کر کہ ایک انسان کتنی آسانی سے دوسروں کی کہی ہوئی باتوں میں آ جاتا ہے، یہ سوچے بغیر کہ سچ کیا ہے۔

مگر اب میں نے تھک ہار کر ان باتوں پر رونا چھوڑ دیا تھا۔ میری دنیا اب میرے بچے تھے، ان کی رونق میں ہی میری جان بستی تھی۔ لیکن یہ طوفان جو اندر ہی اندر پل رہا تھا، کیا یہ کبھی تھم پائے گا، یا یوں ہی اپنوں کے بنائے ہوئے جال میں میری زندگی الجھی رہے گی؟

Comments