میری زندگی کے اس حبس زدہ ماحول میں، جب ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا تھا، اچانک ایک امید کی کرن نمودار ہوئی۔ مجھے جب معلوم ہوا کہ میرے گھر ننھی پری آنے والی ہے، تو میرے اندر کی عورت ایک بار پھر مسکرا اٹھی۔ وہ میری بیٹی تھی، میرے وجود کا حصہ، جس کے تصور نے مجھے اس اذیت کدے میں جینے کا ایک مقصد دے دیا تھا۔
لیکن میرے سسرال والوں کے لیے یہ خوشی نہیں، ایک جرم تھی۔ جب چیک اپ کے بعد یہ معلوم ہوا کہ بیٹی ہونے والی ہے، تو جیسے گھر کا ماحول ہی بدل گیا۔ میری نندوں نے صاف کہہ دیا کہ "ہمیں بیٹا چاہیے، بیٹی نہیں، یہ کیوں پیدا کر رہی ہے؟" ان کے چہروں پر وہ ناگواری اور طنزیہ ماتھے کی شکنیں آج بھی میری آنکھوں کے سامنے ہیں۔ انہیں یہ سمجھ ہی نہیں آیا کہ اولاد تو اللہ کی دین ہے، اس میں میرا یا کسی کا کیا اختیار؟
میں ایک ہنس مکھ لڑکی تھی، لیکن ان جلی کٹی عورتوں کے پاس صرف زہر اگلنے کے سوا کچھ نہ تھا۔ اس حالت میں بھی مجھ سے گھر کے سارے کام کروائے جاتے۔ میں خاموش رہتی، جواب نہ دیتی، شاید اس لیے کہ میری تربیت نے مجھے صبر سکھایا تھا، لیکن میرا صبر ان کے لیے کمزوری بن گیا۔
میری تینوں نندیں کنواری تھیں، عمر ڈھل رہی تھی، اور ان کا چھوٹا بھائی,یعنی میرے شوہر,ان کی واحد امید تھا۔ تب مجھے یہ کہہ کر بیاہا گیا تھا کہ "پہلے اپنی بھابھی کے ساتھ رہ لیں، ایک سال بعد الگ گھر کر لیں گے،l" لیکن مجھے کیا معلوم تھا کہ ان کا ارادہ تو مجھے ساری زندگی غلام بنا کر رکھنے کا تھا؟ ان کا مقصد تو یہ تھا کہ کوئی ایسی ہو جو ان کے گھر کے سارے کام سنبھالے اور ان کی ساری کڑواہٹ جھیلے۔
میرے شوہر، جو اس گھر کے اکلوتے مرد تھے، خاموش تماشائی بنے رہتے۔ ان کے منہ سے ایک لفظ نہ نکلتا۔ پورا دن مجھے طعنے دیے جاتے؛ کبھی اس بات پر کہ میں کیا لائی ہوں، اور کبھی اس بات پر کہ کیا نہیں لائی۔ وہ لوگ اتنے تنگ نظر تھے کہ گھر کی چھوٹی چھوٹی کھانے پینے کی چیزوں تک پر تالے لگا کر رکھتے تھے، جیسے ڈر ہو کہ کہیں میں کچھ کھا نہ لوں!
وہ پورا سال ایک اذیت تھا، ایک لمبی قید تھی جہاں میری امید کی کرن,میری بیٹی,ہی میرا واحد سہارا تھی۔

Comments
Post a Comment