​مائیکے سے واپسی: خوشیوں کی دہلیز پر بچھا ہوا تعصب

​چلہ کاٹ کر، سسرال کی تلخیوں سے دور، اپنے میکے کے پرسکون سائے میں کچھ دن گزارنے کے بعد جب میں واپس سسرال پہنچی، تو میرے دل میں ایک امید تھی کہ شاید اب حالات کچھ بہتر ہوں گے۔ میرا شوہر خود مجھے لینے آیا تھا، اور میرے دل میں ایک معصوم سی خوشی تھی کہ چلو، اب سب ناراضگیاں ختم ہو جائیں گی۔ ​لیکن گھر کی دہلیز پار کرتے ہی، میرا استقبال خوشیوں سے نہیں، بلکہ ان کے بگڑے ہوئے چہروں سے ہوا۔ جیسے ہی ہم نے گاڑی سے بیٹی کا سامان، کپڑے اور تحائف اندر پہنچائے، تو وہاں موجود نندوں اور ساس کے چہروں پر عجیب سی بیزاری تھی۔ ایک دوسرے کو دیکھ کر ان کے تبصرے میرے کانوں میں تیر بن کر چبھے: اچھا ہوا ہم نہیں گئے، ہماری تو بے عزتی ہو جاتی، یہ تو خود ہی منہ اٹھا کر چلی آئی ہے۔ ​مجھے حیرت ہوئی,انہیں یہ تک یاد نہ رہا کہ مجھے ان کا اپنا بھائی لے کر آیا ہے، میں خود نہیں آئی تھی۔ میں نے کتنی محبت اور سلیقے سے اپنی ماں کے دیے ہوئے تحائف ان کے سامنے رکھے، لیکن انہوں نے ان پر ایک نظر ڈالنا بھی گوارا نہ کیا۔ ​اگلے دن جب میں اپنے پورشن سے نیچے اتری، تو ساس نے وہ زہر اگلنا شروع کیا جس کا مجھے گمان بھی نہ تھا۔ کہنے لگیں، تمہاری امی کو تمیز ہی نہیں، انہیں بیٹیوں کو کچھ دینا نہیں آتا۔ ہمارا بیٹا تمہاری ساری خریداری کروا کے لایا، انہوں نے تو کچھ نہیں دیا۔ ​میری برداشت کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا۔ میں نے روتے ہوئے، بھرائی ہوئی آواز میں جواب دیا، آپ کا بیٹا کتنا کنجوس ہے، یہ آپ خود سوچ لیں! جو کچھ آپ دیکھ رہی ہیں، یہ سب میری ماں کا دیا ہوا ہے، آپ کے بیٹے کی طرف سے تو ایک تنکا بھی نہیں آیا۔ ​بس پھر کیا تھا، اس سچائی نے طوفان کھڑا کر دیا۔ اتنی لڑائی، اتنی چیخ و پکار کہ میرا پورا وجود کانپ اٹھا۔ میں روتے ہوئے واپس اوپر اپنے کمرے میں بھاگ آئی، اور اس دن کے بعد سے جیسے میرے آنسو تھمے ہی نہیں۔ یہ الفاظ لکھتے ہوئے بھی آج میری آنکھوں سے آنسو بہہ رہے ہیں۔ میری یہ کہانی ابھی تو شروع ہوئی ہے، آگے جو کچھ ہوا، وہ سن کر آپ کا دل دہل جائے گا۔ میں نے اپنی زندگی کا وہ حصہ ان دیواروں کے پیچھے دفن کر دیا ہے، جہاں محبت کی جگہ صرف انا اور تعصب نے لے رکھی تھی۔


Comments