خون کے آنسو: ایک بے بس ماں کی فریاد

 جب بھی میں اپنی اس کہانی کو قلم بند کرتی ہوں، میرا دل پھٹنے لگتا ہے، سانسیں سینے میں اٹک جاتی ہیں اور ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے روح جسم سے الگ ہو رہی ہو۔ لوگ... لوگ کتنی آسانی سے کہہ دیتے ہیں، کتنی بے دردی سے فصیح و بلیغ فقرے اچھالتے ہیں کہ "کیسی ظالم ماں ہے، جس نے اپنے بچے چھوڑ دیے! بھلا کون ماں اپنے جگر کے ٹکڑوں کو چھوڑ سکتی ہے؟"

اف خدایا! کوئی یہ کیوں نہیں سوچتا کہ ماں تو ماں ہوتی ہے، اس کا دل تو اولاد کے بغیر دھڑکتا بھی نہیں۔

لوگ کہانی کا صرف ایک پہلو دیکھتے ہیں—اوپر سے نظر آنے والا وہ منظر جہاں ماں الگ نظر آتی ہے۔ لیکن وہ اس کہانی کا دوسرا، درد ناک اور اندھیرا پہلو کیوں نہیں دیکھتے جہاں وہ ماں اندر سے مر چکی ہوتی ہے؟ کوئی یہ کیوں نہیں پوچھتا کہ اس پر کیا گزری ہوگی؟ اس نے کن حالات میں، کس کرب اور مجبوری کے تحت یہ زہر کا گھونٹ بھرا ہوگا؟

جب سسرال کے دروازے بند کر دیے جائیں، جب اپنوں کے طعنے اور بے رخی جینے نہ دے، جب ہر طرف اندھیرا ہو اور سانس لینا بھی محال کر دیا جائے، تو ایک عورت کہاں جائے؟ کیا محبت مانگنا، عزت سے جینا اور اپنے بچوں کے ساتھ جڑے رہنا اس کا گناہ تھا؟

میں اندر سے مکمل طور پر ٹوٹ چکی ہوں۔ اب تو لگتا ہے کہ میں جی ہی نہیں پا رہی، بس ایک لاش ہوں جو سانس لے رہی ہے۔ ان بچوں کے بغیر، جن کی خوشبو سے میرا گھر آباد تھا، زندگی ایک عذاب بن چکی ہے۔ رات کی تنہائی میں جب ان کے کھلونے اور کپڑے سامنے آتے ہیں، تو کلیجہ منہ کو آ جاتا ہے۔

لوگوں کے طعنے خنجر کی طرح میرے سینے میں پیوست ہوتے ہیں۔ کوئی نہیں جا ن سکتے  کہ اس خاموشی کے پیچھے کتنے طوفان دفن ہیں، کتنی راتیں سجدے میں روتے روتے صبح ہوئیں، اور کتنے زخم ہیں جو کبھی نہیں بھر سکتے۔

اے اللہ! تو تو دلوں کے حال جانتا ہے۔ تو دیکھ رہا ہے کہ یہ دنیا مجھے کتنی بے دردی سے کٹہرے میں کھڑا کر رہی ہے۔ کیا کسی کے پاس میرے ان آنسوؤں کا کوئی جواب ہے؟


Comments